در بدر
دل کے مسافر و اسلام علیکم !
پیدائش کے وقت والدین نے میرے وجود کو کلام فرید کے نام سے پکار اوقت کے ساتھ جب لفظوں سے رشتہ گہرا ہوا انو میرے محترم استاد پروفیسر نیامت علی مرتضائی صاحب نے میرے قلم کی پہچان کے لیے ایک نیا نام فرید آذریہ تجویز کیا۔ مینام شاید اس آتش احساس کی علامت ہے جو ہر سطر میں سکتی ہے، ہر الفاظ میں جلتی ہے۔
ن عمر قصور کا باسی ہوں اور پیشے کے اعتبار سے ایک سرکاری ملازم ہوں۔ مگر دل کا پیشہ ہمیشہ لفظوں کا کاروباری رہا ہے درد کو لکھنے کا تنہائی کو آواز دینے کا، اور خاموشیوں کو معلی بخشنے کا میں نے خود کو کتابوں میں چھپایا اور لوگوں کی نظروں سے چھپتا رہا۔ جن دنوں کا
مرجمت لا ، انھیں لفظوں کی روشنائی میں زا بود یا۔
در بدر میری کہانی نہیں بیکن میری روح کی بازگشت ضرور ہے۔ میں نے زندگی کے بہت سے مولا کیسے لے کیسے کچھ خوابوں کے ساتھ ، کچھ شکستوں کے مانے ہیں۔ راستے لیے تھے، اور سنگ میل اکثر خاموش بھی خوابوں نے حوصلہ دیا کبھی دل کے ٹوٹے
کناروں نے میر سکھایا۔
تہائی میری ہمسفر رہی، اور خامشی میری جعرانہ
میں مانتا ہوں کہ ہر انسان در بدر ہوتا ہے کبھی دنیا میں تو کبھی خود کے اندر
می اور بدری محض راستوں کی نہیں ہوتی،
بعض اوقات روح کی دو محصن ہوتی ہے جو لفظوں میں نہیں سما پاتی۔
ہر بار سنجل کر چلنے کی کوشش میں
انسان کچھ نہ کچھ پیچھے چھوڑتا جاتا ہے
اور آخر میں جب دو پلٹ کر دیکھتا ہے۔
تو خود کوی اپنی یادوں میں تلاش کرتا ہے۔
اگر آپ میری تحریر میں اپنے دل کی کوئی بات پائیں جو کجھ لیے ہم بھی نہ بھی ایک ہی راستے پر چلے تھے۔
آپ کے لیے دعا گو
فرید آذر